ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار: سمندر میں کھیلنے اور تیرنے کے دوران موت کا شکار ہورہےہیں سیاح

کاروار: سمندر میں کھیلنے اور تیرنے کے دوران موت کا شکار ہورہےہیں سیاح

Thu, 26 Aug 2021 20:11:05    S.O. News Service

کاروار:26؍اگست (ایس اؤ نیوز)حالیہ دنوں میں سمندر کی سیاحت کو آنے والے سمندر میں کھیلنے  اور تیرنے جا کر اپنی قیمتی جانوں کو کھونےکے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہاہے۔ حادثے کا شکار ہونے والوں میں طلبا کی تعداد زیادہ بتائی جارہی ہے۔ انہیں کتنی نصیحتیں کیجئے وہ اپنی جوانی کے جوش میں مگن رہنے کو عام طورپر  مورد الزام ٹھہرایا جاتاہے، مگر اس تعلق سے اس کے لئے اور دوسری وجوہات ہوسکتی ہیں کیا اس پر بھی غور کیاجائے۔

عوامی سطح پر یہ بات کہی جارہی ہےکہ بہت سارے لوگ شراب  اور ڈرگس کے نشےمیں دھت ہوکر اس طرح کے خطرات کو مول لیتےہیں۔ اس سلسلےمیں متعلقہ محکمہ توجہ دینے کے لئے عوام نے مطالبہ کیا ہے۔ کووڈ کنٹرول کے لئے محکمہ پولس نے ان تھک محنت کی ہے، اب اس کے ساتھ سیاحوں پر بھی نگاہ رکھنا دشوار ہورہاہے۔ خیال رہےکہ اس سے قبل متعلقہ محکمہ نے ایسی کرتوت پر روک لگائی تھی۔

موج ومزہ پر روک ضروری :لاک ڈاؤن کے چلتے سیاحتی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔ گائیڈ لائنس میں ڈھیل دینے کے بعد لوگ عبادت گاہوں سےزیادہ سمندری کناروں پر سیاحت کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ ان میں خاص کر طلبا اور نوجوان روزگار طبقہ زیادہ نظر آرہاہے۔ جدید زندگی پرفریفتہ یہ نوجوان چھٹی کو کسی نعمت سے کم نہیں سمجھتے اورویک اینڈ ہوتےہی  فوری کسی سیاحتی مقام  کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ موج ومزہ کے لئے بنگلورو سمیت کئی مقامات کے لوگ سیاحت  کے لئے نکل جاتےہیں۔ مقامی عوام کی طرف سے دی جانےوالی تاکیدکو بھی نظر انداز کرتےہوئے اپنی جان کو کھونا افسوس ناک ہے۔ہزاروں روپیہ خرچ کرکے دوستوں،سہلیوں  کے ساتھ ایک دن کے مزہ کے لئے قیام کرنا ، جان گنوانا دیکھیں تو سوچنا پڑتاہے کہ کیا ہمارے نوجوان غلط راستے پر رواں ہیں۔

ٹسٹ کرنا ممکن نہیں : اعلیٰ پولس افسران ، ڈاکٹروں کا کہنا ہےکہ شراب یا کسی نشیلی اشیاء کے نشےمیں غرق ہوکر جان گنوا بیٹھے ہیں تو متعینہ وقت میں اس کا ٹسٹ کریں گے تو نشے کے متعلق کوئی رپورٹ ملتی ہے۔ لیکن سمندر میں غرق ہونے کے ایک دن کے بعد ہی نعش ملتی ہے یعنی متعینہ وقت گزرنے کے بعد  ۔وقت بیت جانے پر ٹسٹ کیا جاتاہے تو کسی واضح رپورٹ کا ملنا ممکنات میں سے نہیں ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔


Share: